ملا دُوں تا کہ وہ دونوں کھا کرمر جائیں اور سارا سونا میں ہی لے لوں۔ یہ سوچ کر اس نے زَہر خرید کر کھانے میں ملا دیا۔ اُدھر اُن دونوں نے یہ سازش کی کہ جیسے ہی وہ کھانا لیکر آئے گا ہم دونوں ملکر اُس کو مار ڈالیں گے اور پھر سارا سوناآدھا آدھا بانٹ لیں گے۔چُنانچِہ جب وہ شخص کھانا لیکر آیا تو دونوں اُس پرپِل پڑے اور اُس کوقتل کر دیا۔اس کے بعد خوشی خوشی کھانا کھانے کیلئے بیٹھے تو زَہرنے اپنا کام کر دکھایا اور یہ دونوں لالچی بھی تڑپ تڑپ کر ٹھنڈے ہو گئے اور سونا جُوں کا تُوں پڑا رہا۔
( اِتحافُ السَّا دَ ۃِ المُتّقِین،۹/۸۳۶بتصرف)
پیسوں کے لالچ میں دوسروں کی جان لینے اور دوران سفرنشہ آور مشروب پلا کر جمع پونجی سے محروم کردینے والوں کے لئے اس حکایت میں عبرت ہی عبرت ہے ۔ ؎
مال و دولت کے عاشِقوں کی ہر
آرزو ناتَمام ہوتی ہے(وسائل بخشش ، ص۴۹۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(21) بُلندی چاہنے والے کی رُسوائی
ایک بزرگ رَحمَۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :میں نے کوہ ِصفا کے قریب ایک شخص کو خچّر پر سُوار دیکھا، کچھ غُلام اُس کے سامنے سے لوگوں کوہٹا رہے تھے، پھرمیں نے اُسے بغداد میں اِس حالت میں پایا کہ وہ ننگے پاؤں اور حسرت زدہ تھا نیز اُس کے بال بھی بہت بڑھے ہوئے تھے، میں نے اُس سے پوچھا :’’ اللہعَزَّوَجَلَّنے تمہارے