اور اس کی امداد کر کے اپنے موجودہ آقا کے پاس چلا آیا ۔آقا نے جب غلام کو آزُردہ و آبدیدہ دیکھا تو پوچھا : کیا کسی نے تمہیں کوئی تکلیف پہنچائی ہے ؟ یہ سن کر غلام نے اپنے پرانے آقا کا سارا حال اس کے گوش گزار کردیا ، ساری کہانی سننے کے بعد آقا بولا : میں وہی فقیر ہوں جسے اس نے دھکے دلواکر نکلوادیا تھا اور آج دیکھو کہ وقت کی کایا کیسی پلٹی ہے کہ قدرت نے اسے میرے ہی دروازے پر بھیک مانگنے کے لئے لا کھڑا کیا ۔ (بوستان سعدی ، باب دوم در احسان ، ص۸۰)
صدقہ نہ روکوکہیں تمہارا رزق نہ رک جائے
حضرتِ سیِّدَتُنا اَسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں : رسول ُاللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : صدقہ و خیرات مت روکو کہیں تمہارا رزق نہ روک دیا جائے ۔ (بخاری ، کتاب الزکاۃ ، باب التحریض علی الصدقۃ ۔۔۔الخ ، ۱/ ۴۸۳ ، حدیث : ۱۴۳۳)
حضرتِ سیِّدُنا امام بدرُ الدّین عینی رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : یعنی اس خوف سے اپنے مال کو صدقہ کرنے سے مت روک کہ وہ ختم ہوجائے گا کیونکہ اللہعَزَّوَجَلَّ تجھ پر مال کی تنگی فرمادے گا یا تجھ سے مال روک لے گا اور رزق کے وسائل ختم فرمادے گا ۔ حدیث اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ صدقہ مال بڑھاتا اور اس میں برکت اور زیادتی کا سبب ہوتا ہے ، اور بلا شبہ جو بخل سے کام لے اور صدقہ نہ کرے ، اللہعَزَّوَجَلَّ اس کے مال میں تنگی فرمائے گا اور مال میں برکت