(16)کیڑے پڑے ہوئے کتوں کا علاج کرتے
حضرتِ سیِّدُنا شیخ اَحمد رِفاعی رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کیڑے پڑے ہوئے کتوں کے پیچھے علاج کیلئے چکر لگایا کرتے تھے ، کئی دفعہ کتا آپ سے بھاگ جاتا تو اس کے پیچھے جاتے اور فرماتے : میں تو صرف تیرا علاج کرنا چاہتا ہوں۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کوڑھ کے مریضوں کے گھر جاتے ، ان کے کپڑے دھوتے ، سروں اور کپڑوں سے جوئیں نکالتے ، کھانا لے کر جاتے ، مل کر کھاتے ، ان سے دعا کرواتے ، وہ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کو ’’اَبُوْ الْاِیْتَامِ وَ الْمَسَاکِیْن‘‘ کہتے ۔ بسا اوقات دوسرے شہر میں موجود کسی فقیر کی بیماری کی خبر سنتے تو وہاں جاکر اس کی بیمار پرسی کرتے اور خدمت کرتے ، پھر دو یا تین دن کے بعد واپس آجاتے ، شارع عام میں اس مقصد سے کھڑے رہتے کہ اندھوں کی رہنمائی کریں ، ان بوڑھوں کی خبر گیری کرتے جو بیت الخلاء جانے سے عاجز ہوتے اور اپنے کپڑوں میں ہی بول و براز کردیا کرتے تھے ، ان کے کپڑے اُتارتے ، دھوتے ، خشک کرتے ، پھر انہیں پہنادیتے اور ان کے پڑوسیوں کو ان کی خبر گیری کی نصیحت کرتے ۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے پاس ایک یتیم لڑکا تھا جس کے ماں باپ دونوں ہی نہ تھے ، وہ دوران وِرْد یا مجلس وعظ میں آپ کے پاس آجاتا اور آپ سے کھانے کی یا کھیلنے کی کوئی چیز مانگتا ، آپ کھڑے ہوتے اور وہ چیز مہیا کردیتے ، آپ کے ہم عصر مشائخ فرمایا کرتے تھے کہ احمد بن رِفاعی (رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ) کو جو مقامات حاصل ہیں وہ خلق پر کثرتِ شفقت