دعا رد نہیں کی جاتی اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اللہعَزَّوَجَلَّجس طرح مومن پر ظلم کرنے سے ناراض ہوتا ہے اسی طرح کافر پر ظلم سے بھی ناراض ہوتا ہے۔(شرح بخاری لابن بطال،کتاب الزکاۃ،باب اخذ الصدقۃ من الاغنیاء،۳/۵۴۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مظلوم جانور کی بددعا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے؟ ظلم کا انجام کس قدر بھیانک ہے۔ انسان تو انسان جانور پر بھی ظلم کرنے کی اجازت نہیں ، مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کے حوالے سے لکھتے ہیں : مظلوم جانور بلکہ مظلوم کافر و فاسق کی بھی دعا قبول ہوتی ہے اگرچہ مسلمان مظلوم کی دعا زیادہ قبول ہے،کیونکہ مظلوم مُضطَرو بے قرار ہوتا ہے اور بے قرار کی دعا عرش پر قرار کرتی ہے رب فرماتاہے: _ُ (ترجَمۂ کنزالایمان: یاوہ جو لاچار کی سنتا ہے جب اسے پکارے، (پ۲۰، النمل: ۶۲)۔(مراٰۃ المناجیح ،۳/۳۰۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(14) ہاتھ بے کار ہوگیا
حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرم فرماتے ہیں : بنی اسرائیل کے ایک شخص نے ایک بچھڑے کو اس کی ماں کے سامنے ذبح کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ