جسم میں پھیل جائے۔‘‘ میں نے بمشکل تمام مچھیرے کو ڈھونڈنکالا اور معافی مانگنے کے لئے اس کے پاؤں میں گر گیا ۔ اس نے پریشا ن ہوکر پوچھا :تم کون ہو؟ میں نے کہا: ’’میں وہی شخص ہوں جو تم سے مچھلی چھین کر لے گیاتھا،‘‘پھرمیں نے اسے ساری تفصیل بتا کر کٹا ہواہاتھ دکھایا تو وہ بھی رودیا اور کہنے لگا :’’میرے بھائی ! میں نے تمہیں معاف کیا۔ ‘‘میں نے اسے گواہ بنا کر آیندہ کے لئے کسی پر ظلم کرنے سے توبہ کر لی ۔(کتاب الکبائر،ص۱۲۷)
مظلوم کی مدد ضرور ہوتی ہے
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارَّصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہعَزَّوَجَلَّمظلوم سے فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم !بیشک میں ضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر کے بعد۔(ترمذی،أحادیث شتی،باب :۱۳۲، ۵/۳۴۳،حدیث:۳۶۰۹)
مظلوم کی بددعا مقبول ہے
رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:مظلوم کی بددعا سے بچو اگرچہ وہ کافر ہی ہوکیونکہ اس کے سامنے کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ (مسند احمد،مسند انس بن مالک،۴ /۳۰۶،حدیث:۱۲۵۵۱)
شارِحِ بخاری علامہ ابوالحسن علی بن خلف قُرطبی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی شرح بخاری میں لکھتے ہیں :ظلم تمام شریعتوں میں حرام تھا،حدیثِ پاک میں ہے:مظلوم کی