دینا ہے اور مسلمان کی ناحق اِیذا شرعاً حرام۔ رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں :مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذانِیْ فَقَدْ اٰذَی اﷲ۔رَوَاہُ الطَّبَرَانِیْ فیِ الْاَوْسَطِ عَنْ اَنَسٍ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بِسَنَدٍ حَسَنٍجس نے بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو اِیذادی اس نے مجھے اِیذادی اور جس نے مجھے اِیذادی اس نے اﷲعَزَّوَجَلَّ کو ایذا دی۔ ( المعجم الاوسط،۲/۳۸۷،حدیث:۳۶۰۷)پھر علمائے دین متین کی شان تو نہایت اَرفع واعلیٰ ہے ان کی جناب میں گستاخی کرنے والے کو حدیث میں منافق فرمایا:ثَلٰثَۃٌ لَایَسْتَخِفُّ بِحَقِّھِمْ اِلَّامُنَافِقٌ ذُوالشَّیْبَۃِ فِی الْاِسْلَامِ وَذُوالْعِلْمِ وَاِمَامٌ مُقْسِطٌ رَوَاہُ الطَّبَرَانِیْ فیِ الْکَبِیْرِعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ وَاَبُوالشَّیْخِ فیِ التَّوْبِیْخِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہم عَنِ النَّبِی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔یعنی سید عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّمفرماتے ہیں : تین شخص ہیں جن کا حق ہلکانہ جانے گا مگر منافق،{ ایک} اسلام میں بُڑھاپے والا{دوسرا} عالِم {تیسرا } بادشاہِ اسلام عادِل۔( المعجم الکبیر، ۸/۲۰۲، حدیث:۷۸۱۹ ) ایساشخص شرعاً لائق تعزیر ہے۔وَاﷲُ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی اَعْلَمُ وَعِلْمُہٗ جَلَّ مَجْدُہٗ اَتَمُّ وَاَحْکَم(فتاویٰ رضویہ، ۱۳ / ۶۴۴)؎
گناہوں کے اَمراض سے نیم جاں ہوں
پئے مُرشِدی دے شِفا یاالٰہی(وسائل بخشش ،ص۱۰۵)
(13)مچھلی نے انگوٹھا کاٹا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دنیا میں سزا کے متعلق ایک اورعجیب وغریب حکایت ملاحظہ کیجئے اور سزا کا اِنتظار کئے بغیر اپنے گناہوں سے فوری توبہ کرکے آیندہ باز