مسلمان کی ہنسی بنا کر یا اس کو عیب لگا کر یا اس کا نام بگاڑ کر اپنے آپ کو فاسِق نہ کہلاؤ ۔(خزائن العرفان،ص۹۵۰)
فرشتے لعنت کرتے ہیں
حضرتِ سیِّدُناعُمَیْر بِن سَعْد رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجْوَر، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا : جس نے کسی شخص کوا س کے نام کے علاوہ نام سے بلایا اس پر فرشتے لعنت کرتے ہیں۔(جمع الجوامع،۷/۲۳،حدیث:۲۰۶۱۲)علامہ عبد الروؤف مناوی علیہ رحمۃُ اللہِ الہادی اس حدیثِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : کسی ایسے بُرے لقب سے بلانا جو اُسے برا لگے، نہ کہ اے بندۂ خدا! وغیرہ الفاظ سے۔ مزید فرماتے ہیں : فرشتوں کی لعنت کرنے سے مراد یہ ہے کہ فرشتے اس کے لئے نیکوکاروں کے مقام سے دوری کی دعا کرتے ہیں۔ (التیسیر،۲/۴۱۶)
کسی کو بے وقوف یا اُلّو کہنے کا حُکْم
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے سوال ہوا:جو شخص کسی عالِم کی نسبت یا کسی دوسرے کی لفظ مَردُود کہے یا یوں کہے کہ وہ’’ بیوقوف‘‘ ہے ،کچھ نہیں جانتا اور’’ اُلّو ‘‘ ہے، تو اس شخص کی نسبت شَرع شریف کیا حُکْم دے گی؟اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے جوابدیا : بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایسے الفاظ سے یادکرنا مسلمان کو ناحق اِیذا