چاہئے کیونکہ رب تعالیٰ فرماتاہے :
وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقٰبِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمٰنِ ۚ
ترجَمۂ کنزالایمان: اورایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں :(یعنی وہ نام)جو انہیں ناگوار معلوم ہوں۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اگر کسی آدمی نے کسی برائی سے توبہ کرلی ہو اس کو بعدِ توبہ اس برائی سے عار دلانا بھی اس نَہی (یعنی ممانعت کے حکم)میں داخل اور ممنوع ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو کُتّا یا گدھا یا سُور کہنا بھی اسی میں داخل ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ اَلقاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے اَلقاب جو سچّے ہوں ممنوع نہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر کا لقب عَتِیق(جہنم سے آزاد) اور حضرت عمرکا فاروق(حق اور باطل میں فرق کرنے والا ) اور حضرت عثمانِ غنی کا ذُوالنُّورَین (دو نوروں والا)اور حضرت علی کا ابوتُراب(مٹی والا) اور حضرت خالِد کا سَیفُ اللہ(اللہکی تلوار) رضی اللہ تعالٰی عنہم اور جو اَلقاب بمنزلہِ عَلم(یعنی نام کے مرتبہ میں ) ہوگئے اور صاحبِ اَلقاب کو ناگوار نہیں وہ اَلقاب بھی ممنوع نہیں جیسے کہ اَعْمَش(کمزور نگاہ والا)، اَعْرَج (لنگڑا) ۔(’’کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا‘‘کے تحت صدرالافاضل لکھتے ہیں :)تو اے مسلمانو !کسی