(12) چالیس سال تک افلاس کا شکار رہا
حضرت سیدنا امام ابن سِیرینعلیہ رحمۃُ اللہِ المُبین فرماتے ہیں :میں نے ایک شخص کو عار دلاتے ہوئے کہا:اے مُفْلِس،اس کے بعد میں چالیس سال تک اِفلاس کا شکار رہا۔(صید الخاطر،ص۱۸)
کس وقت کس سے کیا بولنا ہے ؟ کاش یہ گُر ہمیں آجائے تو ہماری زندگی پُر سکون ہوجائے ، اندھے کو بھی اندھا بولیں تو اسے بُرا لگتا ہے،آنکھوں والے کو اندھا کہہ کر پکارا جائے گا تو اسے یقینا برا لگے گا۔
لوگوں کے بُرے نام رکھنا
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہ جلد23صفحہ 204پر لکھتے ہیں :کسی مسلمان بلکہ کافر ذِمّی کو بھی بلاحاجتِ شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو اُسے اِیذاء پہنچے، شرعا ناجائز وحرام ہے۔ اگر چہ بات فِیْ نَفْسِہٖ سچی ہو، فَاِنَّ کُلَّ حَقٍّ صِدْقٌ وَلَیْسَ کُلُّ صِدْقٍ حَقًّا (ہر حق سچ ہے مگر ہر سچ حق نہیں)(فتاویٰ رضویہ ،۲۳/۲۰۴)لہٰذاجس کا جونام ہو اس کو اُسی نام سے پکارنا چاہئے ،اپنی طرف سے کسی کا اُلٹا سیدھا نام مثلاً لمبو، ٹھنگو،کالو وغیرہ نہ رکھا جائے ،عُمُوماً اس طرح کے ناموں سے دل آزاری ہوتی ہے اور وہ اس سے چِڑتا بھی ہے لیکن پکارنے والا جان بوجھ کر بار بار مزہ لینے کے لئے اسے اسی نام سے پکارتا ہے ،ایسا کرنے والوں کو سنبھل جانا