Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
25 - 107
 عورت ایک دن اپنے اس دوسرے شوہر کے ساتھ کھانا کھارہی تھی اور ان کے سامنے بھنی ہوئی مرغی رکھی تھی کہ ایک سائل نے دروازے پر صدا لگائی۔شوہر نے اپنی بیوی سے کہاکہ یہ مرغی اس مانگنے والے کو دیدو۔بیوی نے مرغی اس سائل کے حوالے کی اور روتی ہوئی واپس آئی۔جب شوہر نے رونے کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ یہ سائل اس کا سابقہ شوہر ہے اور پھر یہ واقعہ بیان کیاکہ اس کے پہلے شوہر نے ایک سائل کو جھڑک کر واپس کردیا تھا۔عورت کے دوسرے شوہر نے یہ سن کر کہا:اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم!میں ہی وہ سائل ہوں۔(المستطرف،۱/۲۰) گردشِ زمانہ کا ایک عجیب نظارہ یہ تھاکہ اللہعَزَّوَجَلَّ نے اس بَدمَست مالدار کی ہرچیز ، مال ، کوٹھی ، حتیّٰ کہ بیوی بھی چھین کر اس شخص کو دے دیا جو فقیر بن کر اس کے گھر پر آیا تھا اور چند سال بعد اللہعَزَّوَجَلَّ اس شخص کو فقیر بنا کراسی کے دَر پر لے آیا۔ واقعی دولت پر غرور نہیں کرنا چاہئے کہ یہ ہِرتی پِھرتی چھاؤں ہے ، آج اِس کے پاس تو کل اُس کے پاس !تاریخ ایسے سبق آموز واقعات سے بھری پڑی ہے اب یہ انسان کا کام ہے کہ ان سے عبرت پکڑے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(11) بدکاری کی تہمت لگانے کا انجام 
	مدینۂ منورہ میں ایک نیک پرہیز گار عورت کا انتقال ہوا،غسل دینے والی عورت نے اپنی کسی دشمنی کی وجہ سے اس نیک عورت کی پردے کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر کہا :