Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
23 - 107
بل زمین پر گرا اور اس کا دم نکل گیا۔(جامع العلوم والحکم،ص۴۵۸)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جارحانہ اور طنزیہ انداز ِگفتگو اختیار کرتے وقت ہم اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کرتے کہ ہماری زبان کی ’’تیز دھار‘‘سے نہ جانے کتنے مسلمانوں کے دل گھائل ہوجاتے ہوں گے ! کس سے کس وقت کس انداز میں بات کرنی ہے ہمیں شاید معلوم ہی نہیں ،یاد رکھئے کہ تیروتلوار کے گھاؤتو کچھ عرصے میں مندمل ہوجاتے ہیں لیکن زبان سے لگنے والا زخم بعض اوقات مرتے دم تک نہیں بھرتا ، کسی عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
جَرَاحَاتُ السِّنَانِ لَھَا الْتِیَام 	 	وَلَایَلْتَامُ مَاجَرَحَ اللِّسَان 
(یعنی نیزوں کے زخم تو بھرجاتے ہیں ، زبان کے گھاؤنہیں بھرتے )
	بَہرحال ہمیں بات کرنے کی بھی تربیّت لینی ہو گی اور اس کی اِحتیاطیں بھی سیکھنی ہوں گی، جی ہاں اندازِ گفتگو کو یکسر بدل کر اِس پر عاجِزی و نرمی کا پانی چڑھانا اور حُسنِ اخلاق سے آراستہ کرنا ہوگا ۔ یقین مانئے آج ہماری غالِب اکثریت کو شریعت و سنَّت کے مطابِق بات چیت کرنا ہی نہیں آتی، معمولی سا خلافِ مزاج مُعاملہ ہوتے ہی اچّھا خاصا مذہبی وَضع قطع کا آدمی بھی ایک دم جارحانہ انداز پر اُتر آتا ہے!ایک غیبت ہی نہیں ، تہمت ،چغلی ، بدگمانی ، جھوٹامُبالَغہ ،دل آزاری اور اِیذائے مُسلم کے تعلُّق سے بَہُت ساری چیزیں آج کل کی جانے والی اکثر گفتگو کا حصّہ ہوتی ہیں۔لہٰذا دل برداشتہ ہوئے بِغیر اوّلاًاس با ت کو تسلیم کر لیجئے کہ ہمیں دُرُست بولنا ہی نہیں آتاپھر ہم