Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
22 - 107
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یعنی کسی مسلمان کو دینی یا دنیاوی آفت میں مبتلا دیکھ کر اس پر خوشی میں طعن نہ کرو ! بعض دفعہ خوشی میں بھی کسی پر لَاحَوْل پڑھی جاتی ہے ۔ مفتی صاحب مزیدفرماتے ہیں : اگر ملامت کرنا اس کی فہمائش کے لیے ہو تب جائز ہے جب کہ اس طریقہ سے اس کی اِصلاح ہوسکے ۔ مزید فرماتے ہیں : یہ ہے مسلمان کی آفت پر خوشی منانے کا انجام ! کہ خوشی منانے والا خودگرفتار ہوجاتا ہے ، بارہا کا آزمودہ ، ہمیشہ خدا سے خوف کرنا چاہیے ۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۴۷۴)مشہور ہے : ’’مَنْ ضَحِکَ ضُحِکَ‘‘ یعنی جو دوسرے پر ہنستا ہے اس پر بھی ہنسا جاتا ہے۔ 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(9)  بدگوئی کی سزا
	حضرت سیدنا ابو محمدحبیب عجمیعلیہ رحمۃُ اللہِ القویایک دفعہ حضرت سیدنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغفّارکے پاس موجود تھے کہ اتنے میں ایک شخص وہاں آدھمکا اور حضرت سیدنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغفّارپر کچھ دراہم کے معاملے میں سختی کرنے لگا جو انہوں نے تقسیم فرمادئیے تھے۔جب اس کی بدگوئی کا سلسلہ نہ رکا توحضرت سیدنا ابو محمدحبیب عجمیعلیہ رحمۃُ اللہِ القوی  نے بارگاہِ خداوندی میں دستِ دعا دراز کیا اور عرض کی:یااللہعَزَّوَجَلَّ!اس شخص نے ہمیں تیرے ذکر سے روک دیا ہے،توجس طرح چاہے اس کے معاملے میں ہم پر رحم فرما۔اسی وقت وہ شخص منہ کے