اللہعَزَّوَجَلَّ کے نزدیک کَذَّاب (یعنی بہت بڑا جھوٹا)لکھ دیا جاتا ہے۔
(ترمذی،کتاب البر والصلۃ،باب ما جاء فی الصدق والکذب،۳ /۳۹۱، حدیث: ۱۹۷۸)
سچے آدمی کی بات دشمن کے بارے میں بھی قبول کی جاتی ہے
حضرت سیدنا اَحنف رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا:اے میرے بیٹے!سچ کی فضیلت کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ سچے آدمی کی بات اس کے دشمن کے بارے میں بھی قبول کی جاتی ہے جبکہ جھوٹ کے بُرا ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ جھوٹے شخص کی بات نہ تو اس کے دوست کے بارے میں قبول کی جاتی ہے اور نہ دشمن کے بارے میں۔(التذکرۃ الحمدونیۃ الباب الثامن فی الصدق والکذب،۳/۶۴)؎
غیبت سے اور تُہمت و چغلی سے دُور رکھ
خُوگر تُو سچ کا دے بنا یاربِّ مصطَفٰے(وسائل بخشش، ص۱۳۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کسی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار
حضرتِ سیِّدُنا واثِلہ بن اَسْقَع رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کرو ،ورنہ اللہعَزَّوَجَلَّ اس پر رحم کردے گا اور تجھے مبتلا کردے گا ۔
(ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، باب (ت : ۱۱۹) ، ۴/ ۲۲۷ ، حدیث : ۲۵۱۴)