آوازیں آتی ہیں۔ میں نے پوچھا: شَنٌ وَّمَا شَنْ ؟یعنی’’مشکیزہ! مشکیزہ کیا ہے؟‘‘کی آواز آنے کا کیا مقصد ہے؟ بڑھیانے کہا: ایک مرتبہ اِس کے پاس ایک پیاسا شخص آیا، اس نے پانی مانگا تو(اِس نے اُس کو پریشان کرنے کیلئے خالی مشکیزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا : جاؤ!اِس مشکیزے سے پانی پی لو ، وہ پیاسا بے تا با نہ مشکیزے کی طرف لپکا، جب اُٹھایا تو اُسے خالی پایا، پیاس کی شدّت سے وہ بے ہوش ہو کر گِر گیا اور اس کی موت واقِع ہوگئی ۔ پھرجب سے میرا شوہر مرا ہے آج تک روزانہ اُس کیقَبْر سے آواز آتی ہے : شَنٌ وَّمَا شَنْ یعنی’’مشکیزہ! مشکیزہ کیا ہے ؟‘‘(عُیونُ الْحِکایات،ص۳۰۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:تم پر سچ بولنا لازِم ہے کیونکہ سچ نیکی کی طرف رہنُمائی کرتا ہے اور نیکی جنَّت کاراستہ دکھاتی ہے، آدَمی ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی جُستجو میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک صِدِّیق(یعنی بہت سچا) لکھ دِیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو! کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنَّم میں پہنچا دیتے ہیں ، آدَمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور اس کی جستجو میں رہتا ہے یہاں تک کہ