(8) مشکیزہ کیا ہے؟
حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں : ایک مرتبہ دورانِ سفر میرا گزر زمانۂ جاہلیت کے قبرستان سے ہوا ۔یکایک ایک مُردہ قَبْر سے باہَر نکلا، اُس کی گردن میں آگ کی رنجیربندھی ہوئی تھی ، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا۔ جب اُس نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا :’’ اے عبدُاللہ ! مجھے تھوڑا سا پانی پلا دو!‘‘میں نے دل میں کہا: اس نے میرا نا م لے کر مجھے پکارا ہے یا تو یہ مجھے جانتا ہے یا عَرَبوں کے طریقے کے مطابق ’’عبدُاللہ‘‘ کہہ کر پکار رہا ہے ۔ پھر اچانک اسی قَبْرسے ایک اور شخص نکلا ،اُس نے مجھ سے کہا:’’ایعبدُاللہ! اس نافرمان کو ہر گز پانی نہ پلانا ، یہ کافر ہے۔‘‘ دوسرا شخص پہلے کو گھسیٹ کر واپسقَبْر میں لے گیا۔ میں نے وہ رات ایک بڑھیا کے گھر گزاری، اس کے گھر کے قریب ایکقَبْر تھی ،میں نےقَبْر سے یہ آواز سنی:بَوْلٌ وَّمَا بَوْل؟شَنٌ وَّمَا شَنْ ؟یعنی’’ پیشاب! پیشاب کیا ہے ؟ مشکیزہ! مشکیزہ کیا ہے ؟‘‘ اِس آوا زکیمُتَعَلِّق بڑھیا سے پوچھا تو اُس نے کہا : یہ میرے شوہر کی قَبْر ہے، اسے دو خطا ؤ ں کی سز امل رہی ہے۔ پیشاب کرتے وقت یہ پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا ، میں اس سے کہتی کہ تجھ پر افسوس! جب اُونٹ پیشاب کرتا ہے تو وہ بھی اپنے پاؤ ں کُشادہ کر کے چھینٹوں سے بچتا ہے ،لیکن تُواس مُعامَلے میں بِالکل بھی اِحتیاط نہیں کرتا ، میرا شوہر میری ان باتوں پر کوئی تو جُّہ نہ دیتا، پھر یہ مرگیا تو مرنے کے بعد سے آج تک اس کی قَبْر سے روزانہ اسی طرح کی