ارشاد فرمایا:جب آپ حضرات تشریف لائے تو مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ آپ بھوک کا شکار ہیں چنانچہ جو کچھ گھر میں حاضر تھا وہ میں نے پیش کردیا،اتنے میں سائل نے صدا لگائی تو میں نے وہ دونوں روٹیاں اسے دیکر بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:اے اللہعَزَّوَجَلَّ!تیرا وعدہ ایک کے بدلے دس دینے کا ہے اور مجھے تیرے وعدے پر مکمل یقین ہے۔جب وہ کنیز18 روٹیاں لائی تو میں نے سمجھ لیاکہ اس معاملے میں ضرور کوئی غلطی ہوئی ہے اس لئے میں نے انہیں واپس کردیا ، پھر جب وہ بیس روٹیاں لیکر آئی تو میں نے وعدے کی تکمیل سمجھ کر انہیں قبول کرلیا۔ (تذکرۃ الاولیاء،ذکر رابعہ،۱/۶۸)
(54)لُقمے کے بد لے لُقمہ
حضرتِ سیِّدُنا امام عبد اللہ بن اَسعَد یافِعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْکَافِی ’’رَوْضُ الرِّیَاحِیْن‘‘میں نقْل فرماتے ہیں :__َّ کی رضا کیلئے ایک عورت نے کسی محتاج(یعنی مسکین) کوکھانا دیااور پھر اپنے شوہر کو کھانا پہنچانے کھیت کی طرف چل پڑی،اُس کے ساتھ اُس کا بچّہ بھی تھا، راستے میں ایک دَرِندے(یعنی پھاڑ کھانے والے جانور) نے بچّے پر حملہ کر دیا، وہ دَرِندہ بچّے کو نگلنا ہی چاہتا تھا کہ ناگہاں (یعنی اچانک) غیب سے ایک ہاتھ ظاہِرہوا جس نے اُس دَرِندے کو ایک زوردارضَرب لگائی اوربچّے کو چُھڑا لیا، پھر غیب سے آواز آئی: ’’اے نیک بخت! اپنے بچّے کو سلامَتی کے ساتھ لے جا! ہم نے لُقمے کے بدلے تجھے لُقمہ عطا کر دیا۔‘‘ (یعنی تُو نے غریب کو کھانے کا لُقمہ کِھلایا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے بچّے کو دَرِندے کا لُقمہ بننے سے بچا لیا)۔ (رَوْضُ الرَّیاحِین