اِنْ شَآءَاللہ کہا گیا ہو)۔یہ سن کر حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے ارشاد فرمایا:اے امیر المومنین!ربیع کا گمان یہ ہے کہ آپ کے لشکر کی آپ سے بیعت درست نہیں ہے۔منصورنے سبب پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا:اس جگہ قسم کھاکر بیعت کرلی اور پھر گھر میں جاکر اِنْ شَآءَاللہ کہہ کر بیعت کو توڑ دیا۔یہ سن کر خلیفہ منصور ہنسنے لگا اور اس نے ربیع سے کہا:اے ربیع !امام صاحب کے پیچھے نہ پڑا کرو۔جب دربار سے باہر نکلے تو ربیع نے کہا:آج تو آپ نے مجھے قتل کرا ہی دیا تھا۔حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہرحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا:نہیں ،بلکہ تم نے میرے قتل کی کوشش کی تھی لیکن میں نے تمہیں اور اپنے آپ کو بچا لیا۔(تاریخ بغداد،رقم الترجمہ:۷۲۹۷،النعمان بن الثابت، ۱۳/۳۶۲)؎
حسدکی بیماری بڑھ چلی ہے لڑا ئی آپس میں ٹھن گئی ہے
شہا مسلمان ہوں منظَّم، امامِ اعظم ابوحنیفہ(وسائل بخشش، ص۵۷۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(52)پانی کے چند قطروں کا وبال
حضرتِ علامہ عبدالرحمن ابن جوزی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی لکھتے ہیں :کسی گاؤں میں ایک دودھ فَروش رہا کرتاتھاجودو دھ میں پانی ملایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ سیلاب آیا اور اس کے مویشی بہاکرلے گیاتو وہ روتے ہوئے کہنے لگا کہ سب قطرے مل کر سیلاب