شوق سے گاتا تھا، اسکول میں ڈرامے یاگانے کاکوئی بھی پروگرام ہوتا توناچ، گانے کے لیے میں پیش پیش ہوتا، دوست فرمائش کرتے تو انہیں بھی گانے سنا کر گناہوں میں مبتلا کرتا الغرض میری زندگی کے شب وروز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں بسر ہو رہے تھے۔ ایک دن ایک سنّتوں کے پیکر، مبلغ دعوتِ اسلامی نے مجھے سنّتوں بھرے مسجد اجتماع کی دعوت دی ان کی دعوت دینے کا انداز اتنا دلربا تھا کہ میں انکار نہ کرسکا اور فوراً ان کے ساتھ اجتماع میں جانے کے لئے تیار ہوگیا اسی دن مبلغ دعوتِ اسلامی ، رکنِ شوریٰ مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کا سنّتوں بھرا بیان تھاجب میں نے رکنِ شوریٰ مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کا سنّتوں بھرا بیان سنا تومجھ پر بہت اثر ہوا۔ اختتامِ بیان پر لائٹیں بند کی گئیں اور تمام اسلامی بھائیوں نے بآوازِ بلند درودِ پاک پڑھنا شروع کردیا پھر ذکر اللہ عَزَّوَجَلَّ ہوا، اس دوران مجھے بہت قلبی سکون مل رہا تھا۔ پھر ایسی رقت انگیز دعا ہوئی کہ اسلامی بھائی رو رو کر اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے لگے مجھ پر بھی رِقت طاری ہو گئی میں بھی اشک ندامت بہا بہا کر توبہ واستغفار کر رہا تھا، دل کی کالک اترتی محسو س ہوئی اور زندگی گزارنے کا سلیقہ آگیا۔ اختتام دعا پر مجھے ایسا لگا جیسے میرا کافی بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اجتماع میں شرکت کی برکت سے گناہوں سے توبہ نصیب ہوئی اور میں رکنِ شوریٰ مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے ذریعے دامنِ امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ