دیکھتا ہی رہ گیا۔ چاروں طرف سبز سبز عمامہ پہنے ہوئے اسلامی بھائی نظر آ رہے تھے میرے دل کو بہت سکون ملا۔ میں ایک جگہ بیٹھ کر توجہ سے بیان سننے لگا میرے دوست آپس میں ہنسی مذاق کرتے رہے۔ بیان کے بعد جب بلند آواز سے ذکر شروع ہوا تو پہلے میں چونکا کیونکہ یہ میرے لئے بالکل ہی نئی بات تھی مگر پھر میں بھی ذکر میں شامل ہو گیا۔ ذکر کے بعد دعا کے لئے اعلان کیا گیا میں نے بھی دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھا دیئے ،مبلغِ دعوتِ اسلامی نے دعا سے پہلے یہ اشعارپڑھے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
ان اشعار نے میرے دل کی دنیا کو زیروزبر کر کے رکھ دیا دُعا شروع ہوئی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں بے اختیار بلند آواز سے رونے لگا گناہوں سے تائب ہو کر پختہ ارادہ کر لیا کہ اب کچھ بھی ہو جائے میں اجتماع کا کبھی ناغہ نہیں کروں گا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں نے پابندی کے ساتھ اجتماع میں شرکت شروع کر دی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے آہستہ آہستہ مجھے تمام برائیوں سے چھٹکارا مل گیا اور میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ تادمِ تحریراپنے علاقے میں مدنی انعامات کے ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہا ہوں۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد