Brailvi Books

قسط 5: علم وحکمت کے 125مَدَنی پھول تذکرہ امیرِ اہلسنّت
96 - 100
کی قربانی کرنا لازم ہے ۔(کیونکہ فقیر پر وہ جانور خریدنے کی وجہ سے اسی جانور کو ذبح کرنا واجب ہوگیا تھا )   ( رد المحتار علی الدر المختارج۹ ص۵۳۹دار المعرفہ بیروت) 
	اسی طرح صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں  ’’فقیر نے قربانی کیلئے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے ‘‘(بہار شریعت ج۳ حصہ ۱۵ص۱۳۱مکتبہ رضویہ باب المدینہ کراچی)
ہاں ! زیداگر غنی ہے اور اگرچاہے تو اُس کیلئے افضل یہ ہے کہ وہ بچے والی گائے کی قربانی نہ کرے بلکہ اسکے بجائے کسی اور جانور کی قربانی کرلے۔چنانچہ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللہ القوی کی وِساطت سے بچے والی گائے یا بکری سے متعلق دو مَدَنی پھول پیش کئے جاتے ہیں  :
 (۱) قربانی کیلئے جانور خریدا تھا قربانی کرنے سے پہلے اسکے بچہ پیدا ہوا تو بچے کو بھی ذبح کر ڈالے اور اگر بچے کو بیچ ڈالا تو اسکا ثمن (یعنی حاصل ہونے والی قیمت) صدقہ کردے اور اگر نہ ذبح کیا نہ بیع کیا (یعنی نہ بیچا)اورایامِ نحر(یعنی قربانی کے دن) گزر گئے تو اس کو زندہ صدقہ کردے،اور اگر کچھ نہ کیا اور بچہ اسکے یہاں  رہا اور قربانی کا زمانہ آگیا یہ چاہتا ہے کہ اِس سال کی قربانی میں  اُسی کو ذبح کردے یہ نہیں  کر سکتا اور اگر قربانی اُسی کی کردی تو دوسری قربانی پھر کرے کہ وہ قربانی نہیں  ہوئی اور وہ بچہ ذبح کیا ہوا صدقہ کردے بلکہ ذبح سے جو کچھ اُسکی قیمت میں  کمی ہوئی اُسے بھی صدقہ کرے ۔
 (۲) قربانی کی اور اُسکے پیٹ میں  زندہ بچہ ہے تو اسے بھی ذَبح کردیں  اور اسے صَرف