حضرتِ علامہ علاؤالدِّین حَصکَفِیعلیہ رحمۃ اللہ القوی دُرِّمختار میں فرماتے ہیں :’’وَلَایَضُرُّتَعِیْبُھَا مِنْ اِضْطَرَابِھَا عِنْدَالذَّبْحِیعنی قربانی کرتے وقت جانور اُچھلا کودا اور عیب پیدا ہو گیا تو مُضِر نہیں ۔‘‘اِسی کی شر ح میں حضرتِ علّامہ ابنِ عابِدِین شامی قدس سرہ السامی فر ماتے ہیں :’’وَکَذَا لَوْ تَعِیْبَتْ فِیْ ھٰذِہٖ الْحَالَۃِ اَوِانْفَلَتَتْ ثُمَّ اُخِذَتْ مِنْ فَوْرِھَایعنی اسی طرح اگر اس حالت (وقت قربانی اچھلتے کودتے ) عیب دار ہو ا یا بھاگ گیا اور فورا پکڑ کر لایاگیا اور ذبح کر دیا گیا قر بانی ہو جائے گی۔ ‘‘
( رد المحتار علی الدر المختارج۹ ص۵۳۹دار المعرفۃ بیروت)
وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ سَلَّمَ
مَدَنی مشورہ:قربانی کے بارے میں مزید شرعی معلومات حاصل کرنے کیلئے بہارِ شریعت حصہ 15 سے ’’قربانی کابیان‘‘ نیز دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کے مطبوعہ32صَفحات پر مشتمل رسالے ’’اَبلَق گھوڑے سوار‘‘کا مطالعہ فرمائیے۔
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(2) قبرکو برابر کرنا کیسا؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء ِدین و مفتیانِ شرعِ متینکَثَّرَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناِس مسئلے میں ہماری مسجد میں جگہ کی کمی ہے مسجد سے متصل(یعنی ملی ہوئی) جگہ میں ایک پرانی قبر قیامِ