وہ بعض جوابات جوامیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے جامعۃ المدینہ کے ’’تَخَصُّص فِی الْفِقْہ(مفتی کورس)‘‘کے طَلَبہ کے اصرار پر لکھوائے ۱؎
(1) بوقتِ قربانی جانور کا عیب دار ہوجانا
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء ِدین و مفتیانِ شرعِ متینکَثَّرَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناِس مسئلے میں کہ قربانی کے دنوں میں قربانی کے جانور میں ذَبح کی کاروائی کے دوران ایسا عیب پیدا ہو گیا جو کہ مانِع قربانی (یعنی قربانی میں رُکاوٹ)ہے تو کیا کرے ،کیا دوسرا جانور لانا ہو گا ؟
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُبِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَالْحَقِّ وَالصَّوَابِ
صورتِ مَسؤلَہ (یعنی پوچھی گئی صورت )میں اگر جانور کو فوراً ذَبح کر دیا گیا تو قربانی ہو گئی جیسا کہصدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القویبہارِ شریعت حصہ 15 صفحہ141میں دُرِّمختار کے حوالے سے رقم ( یعنی تحریر) فرماتے ہیں :’’ قربانی کرتے وقت جانور اُچھلا کودا جسکی وجہ سے عیب پیدا ہو گیا یہ عیب مُضِر(یعنی نقصان دہ) نہیں یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اُچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہو گیا اور وہ چُھوٹ کر بھاگ گیا اور فورا پکڑ کر لایا گیا اور ذَبح کر دیا گیا جب بھی قر بانی ہو جائے گی ۔ ‘‘(بہار شریعت حصہ ۱۵ ص۱۴۱ مکتبہ رضویہ باب المدینہ کراچی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱؎ : اِن میں ضرورتاً ترمیم واضافہ اور روایات کی تخریج کی گئی ہے ۔۔۔(علمیہ)