سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ نے اِزالے کی بھر پورکوشِش کی ہے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات کے گواہ بَہُت ملیں گے مگرمحض نفسانیَّت کی وجہ سے کبھی بے جاضِد کی ہو اِس کا گو اہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔جب کسی تنظیمی مُعامَلے یا طریقۂ کار پر کوئی معقول اعتِراض ہوامگر اپنی تائید میں بھی جیَّد عُلَما پائے تو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اُمّت کی بھلائی پر مشتمل دین کے مَدَنی کاموں میں آسانی والے حکم پر عمل کی سعی رہی ہے ۔ اس کو بے جا ضد کہنا انصاف نہیں اِسے حکمتِ عملی کانام دینا چاہئے۔یَسِّرُوْْاوَلَا تُعَسِّرُوْایعنی ’’لوگوں کو آسانیاں دو دشواریوں میں مت ڈالو۔‘‘(صحیح بخاری،کتاب العلم، ج۱ ص۴۲، الحدیث ۶۹) اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ کے مُثبت انداز کے نتیجے میں بے شماروہ عُلماء ومشائخِ اہلسنّت جو کل تک عدمِ اطمینان کاشکار تھے، آج بڑھ چڑھ کر دعوتِ اسلامی کے حامیٔ کار ہیں ، جنہوں نے اپنی مساجِد میں سنّتوں بھرے بیانات کرنے سے سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ کو روکا ،نکالا، آج چشم براہ ہیں۔بَہَر حال رِضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی منزِل پانے کیلئے فیضانِ غوث ورضا کے ذَرِیعے دامنِ مصطَفٰیصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمتھامے ، سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ کے سفر کا سلسلہ جاری رہا،پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتوں ، میٹھے مصطَفٰیصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی عنایتوں ، عُلماء ومشائخِ اہلسنّت کی حمایتوں اور عام سنّیوں کی بھر پور اِعانتوں سے ’’دعوتِ اسلامی ‘‘کا ننّھا سا