Brailvi Books

قسط 5: علم وحکمت کے 125مَدَنی پھول تذکرہ امیرِ اہلسنّت
87 - 100
مروی ہے کہ ’’ رَأْسُ الْحِکْمَۃِ مَخَافَۃُ اللہ‘‘ یعنی’’ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ حکمت کا سر ہے۔‘‘  (شعب الایمان،ج۱،ص۴۷۰،الحدیث ۷۴۳)
سگِ مدینہ پر بے جا اعتِراضات اور حکمتِ عَمَلی کی بَرَکات
{125}دعوتِ اسلامی کا جب سے پَودا نکلا ہے تب سے سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہ کو ’’غیروں ‘‘ کے علاوہ ’’اپنوں ‘‘ کی طرف سے بھی تقریرات، تحریرات و اشتہارات کے ذَرِیعے وارِد کردہ اعتِراضات کا سامنا ہے مگر سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہُ  سے آپ نے کسی سُنّی کے خلاف کبھی مائک پر کچھ سنا ہو گا نہ اس ضمن میں  کوئی رسالہ یا اشتہار یا ہینڈ بل ہی پڑھا ہو گا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّسگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ کی یہی کوشِش رہی ہے کہ جوابی کاروائی نہ تحریری کرنی ہے نہ تقریری کہ اپنوں  سے صُلْح ہو بھی گئی تب بھی ’’غیروں  ‘‘ کے ہاتھ آئی ہوئی اصل آواز کی کیسٹ یا’’دستاویز‘‘ مسلکِ اہلسنّت کے خلاف استِعمال ہوتی رہے گی۔ البتَّہ کبھی کبھی عِندَ الضَّرورت مُثْبَت انداز میں  وَضاحت کی سعادت ضَرور حاصِل کی ہے ۔ ہاں  مُراسَلَت کے ذَرِیعے وَضاحتوں  وغیرہ سے کتراتا رہا ہوں کہ یہ بھی طبع ہو سکتے،بات کا بتنگڑ بن سکتا اور’’دشمن‘‘ کو مواد ہاتھ آسکتا ہے ، لکھنے میں  بھی کچھ نہ کچھ کمی رہ سکتی ہے یہاں  حالت یہ ہے کہ ’’ دوست‘‘ ہی چشم پوشی کا حوصلہ نہیں  رکھتے اور ’’دشمن‘‘ سے کسی قسم کی بھلائی کی توقُّع رکھنا تو ویسے ہی حماقت ہے۔جب کبھی کسی شَرعی مسئلے میں  تَسامُح کی نشاندہی کی گئی ،  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ