کے بعد بلکہ ہو سکتا ہے آپ کے جیتے جی ہی ’’دشمن ‘‘ آپ کی تحریروں کے ذَرِیعے آپ کے پیارے پیارے مَسلک یعنی مَسلکِ اعلیٰ حضرت کو نقصان پہنچائے ۔ کسی سُنّی عالم سے آپ کواگر بِلا وجہ بھی کوئی تکلیف پہنچ جائے تب بھی دل بڑا رکھئے،صبر وتحمُّل سے کام لیجئے، اِس حدیثِ پاک : مَنْ سَتَرَ مُسْلِماً سَتَرَہُ اللہ یعنی ’’جو مسلمان کی عیب پوشی کریگااللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے عیب چھپائے گا‘‘(سنن ابن ماجہ،کتاب الحدود،باب الستر علی المؤمن،ج۳ص۲۱۸) پر عمل کرتے ہوئے ، فِتنہ دبانے اور گناہوں کا سدِّ باب فرمانے کی اچّھی اچّھی نیّتیں کر کے اس پر مضبوط رہتے ہوئے اَوروں پر اظہار کئے بِغیرضَرورتاً براہِ راست اُسی سے اِفہام وتَفہِیم کی ترکیب بنایئے مسئلہ حل نہ ہواور شریعت اجازت دیتی ہوتو خاموشی اختیار فرمایئے ۔ ہرگز اجلاسوں اور جلسوں وغیرہ میں اُس کی غلطی کو بیان کرنے کی ’’غلطی ‘‘مت کیجئے کہ اس طرح بسا اوقات ضد پیدا ہوجاتی اورمسئلہ سُلَجھنے کے بجائے مزید اُلَجھ کر رَہ جاتا ہے،اپنی ہی وَحدت پارہ پارہ ہوتی ، آپس میں گروپ بن جاتے اور نتیجۃً غیبتوں ،چغلیوں ، بدگمانیوں ، تہمتوں ،دل آزاریوں ،عیب دریوں وغیرہ وغیرہ گناہوں کے دروازے کُھل جاتے ہیں ، عوام النّاسمُتَنَفِّرہوتے اورپھردین کے کاموں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ جس کے دل میں کما حقُّہٗ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ ہو گا اِن شاءَ اللہُ الْقَدیرعَزَّوَجَلَّ وہ سگِ مدینہ عفی عنہ کامافِی الضَّمیرسمجھ چکا ہو گا۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے