اَلْاِنْسا نُ حَرِیْصٌ فِیْما مُنِعَ ’’ یعنی انسان اس بات کا حریص ہو تا ہے جس سے اسے روکا جائے‘‘ ( تفسیر رازی،سورۂ النور،تحت آیت ۲،ج۸،ص۳۰۴)کے مِصداق مخالِف ’’جوابُ الْجواب‘‘کی ترکیب کرے اور یوں آپ مزید مُشتَعِل ہو کر کرنے کے کاموں سے محروم ہوکر نہ کرنے کے کاموں میں جا پڑیں اور نفس و شیطان کی چال میں پھنس کر غیبتوں ، چُغلیوں ، بدگمانیوں ، عیب دریوں اور دل آزاریوں جیسے کبیرہ گناہوں کے دَلدل میں دھنستے چلے جائیں۔برائے کرم! ہر مخالَفَت کا جواب فَقَط مَدَنی کام سے دیجئے ۔ مخالَفَت کی جتنی زیادہ شدّت ہو مَدَنی کام میں اُتنی ہی زیادت ہو۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّمخالِف جلد ہی تھک ہار کر چُپ ہو جائے گا۔
عُلَماء کی خدمات میں دست بستہ مَدَنی التِجاء
{124} جب تک شرعاً واجِب نہ ہو جائے اُس وقت تک عُلماء و مشائخِ اہلسنّت کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے،ماہناموں ، اشتہاروں اور اخباروں وغیرہ میں ایک دوسرے کے خلاف نہ لکھا جائے ورنہ عُیوب سے پردے اُٹھیں گے، پوشیدہ راز کُھلیں گے، اپنے ہی ہاتھوں اپنوں کی آبروئیں پامال ہوں گی اور لوگ ہنسیں گے، ’’دشمن‘‘آپ کی تحریریں محفوظ کریں گے، آپ ہی کی طرف سے آپ پر وار کرنے کیلئے گویا ہتھیار ’’دشمن‘‘ کے ہاتھ آئیں گے ۔یادرکھئے! اَلْخَطُّ بَاقٍ وَ الْعُمرُفانٍیعنی’’ تحریر (تادیر)باقی رہے گی اور عمر(جلد) فنا ہو جائے گی۔‘‘ آپ کے انتِقال