Brailvi Books

قسط 5: علم وحکمت کے 125مَدَنی پھول تذکرہ امیرِ اہلسنّت
84 - 100
فردِ مخصوص اور ادارے کے بارے میں  احتیاط
{121}کسی شخصِ مُعَیَّن یا اِدارے کے بارے میں مَنفی نوعیّت کا سُوال آئے تو مسؤلہ ( یعنی جس کے بارے میں سوال کیا گیا) کے بارے میں  نام لیکر جواب لکھ کر دے دینا سخت فِتنے کاباعِث ہو سکتا ہے اور یوں  بھی یکطرفہ سُن کر حَتمی رائے قائم نہیں  کی جاسکتی بلکہ فریقَین کی سُن کر بھی ایسے موقع پر لکھ کر جوابات دینے سے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے اور ویسے بھی  فتویٰ لکھ کر دینا مفتی پرواجِب نہیں  ۔
اشارے سے بھی مخالَفت میں  احتیاط
{122}جب تک شرعاً واجِب نہ ہو جائے کسی سُنّی کے خلاف کِنایَۃً (یعنی اشارے میں  بھی) کچھ لکھ کر مت دیجئے بلکہ اشاروں  میں  بولئے بھی نہیں ، آپ عالم ہیں ، اپنے عظیم منصب کے پیشِ نظر آپ کوخوامخواہ مُتَنازِعہ شخصیّت نہیں  بننا چاہئے کہ کِنایہ (اشارہ)بھی عام طور پر لوگ سمجھ ہی جاتے ہیں  بلکہ مقولہ ہے: اَلْکِنَایَۃُ اَبْلَغُ مِنَ الصَّرِیح یعنی کِنایہ صریح( واضِح) سے بھی بڑھ کر بَلیغ(یعنی کامِل) ہے۔(مرقاۃ المفاتیح،کتاب فضائل القرآن،ج۴ص۶۸۷)
ہر مخالَفت کا جواب مَدَنی کام!
{123}بِالفرض کوئی مسلمان آپ کی بے سبب بھی مخالَفت کرے تو بھی آپ بِلا ضرورتِ شرعی جوابی کاروائی سے باز رہئے،آپ جواب دیں  اورعین ممکن ہے کہ