کا سکّہ جمانے اور صرف اپنے گرد مُتأَثِّرینکا جمگھٹالگانے کے بجا ئے دعوتِ اسلامی کی مَحَبَّت پلایئے اور انہیں مَدنی قافِلوں کا مسافِر بنایئے، اس سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ دین کا بَہُت فائدہ ہوگا۔لوگ جس کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلیں ، عقیدت سے ہُجوم کریں اس کا حُبِّ جاہ ،’’میں میں ‘‘اور’’اپنے آپ کو کچھ سمجھنے‘‘ والی مذموم صفات سے بچنا بے حد دشوار ہے ۔
{116}ہردُنیوی نعمت کے ساتھ زَحمت ضَرورہوتی ہے اور نعمت جتنی بڑی اُتنی ہی زَحمت بھی بڑی۔
{117}جوقناعت کرے گا اِن شاءَ اللہُ الغفّارعَزَّوَجَلَّ خوشگوار زندگی گزارے گا۔ دل میں دنیا کی حِرص جتنی زیادہ ہو گی اُتنی ہی زندگی میں بدمزگی بڑھے گی۔اَلْحِرصُ مِفْتاحُ الذُّلِّ یعنی حِرص ، ذلّت کی کنجی ہے۔
{118}قَناعت انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی عظیم الشان صِفَت ہے۔ کاش! اس کا کوئی آدھا ذرّہ ہی ہمیں نصیب ہو جاتا!اور یوں ہم دنیا و آخِرت کی راحت کا سامان پا لیتے ۔اَلْقَنَاعَۃُ مِفْتاحُ الرَّاحَۃِ یعنی قناعت ، راحت کی کنجی ہے۔
{119}قناعت یہ ہے کہ جوتھوڑا سامل جائے اُسی کو کافی سمجھے ، اُسی پر صَبْر کرے۔اَلصَّبْرُ مِفْتَاحُ الْفَرَجِ یعنی صبر ،کُشادَگی کی کنجی ہے۔( تفسیر رازی،سورۃ ابراہیم،تحت آیت۱۱،ج۷،ص۷۵)
{120}اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی سب سے بدترین آفت ہے۔