جب اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتکے کسی نے قدم چومے۔۔۔۔
میرے آقااعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃُ ربِّ العزّت کی عاجِزی کا واقِعہ ملا حظہ ہو چُنانچِہ حضور(اعلیٰ حضرت) ایک صاحِب کی طرف مُتَوَجِّہ ہو کر حکمِ مسئلہ ارشادفرما رہے تھے ۔ ایک اور صاحِب نے یہ موقع قدم بوسی سے فیضیاب ہونے کا اچّھا سمجھا ، قدم بوس ہوئے(یعنی قدم چوم لئے) ،فوراً (اعلیٰ حضرت کے)چہرۂ مبارَک کا رنگ مُتَغَیَّر(یعنی تبدیل)ہوگیا اور ارشاد فرمایا: اِس طرح میرے قلب کو سخت اذِیَّت ہوتی ہے ، یوں تو ہر وقت (میری)قدم بوسی (میرے لئے)ناگوار ہوتی ہے مگر دو صورَتوں میں سخت تکلیف ہوتی ہے (۱)ایک تو اُس وقت کہ میں وظیفے میں ہوں (۲) دوسرے جب میں مشغول ہوں اور غفلت میں کوئی قدم بوس ہو کہ اُس وقت میں بول سکتا نہیں۔ (پھرفرمایاکہ) میں ڈرتا ہوں ، خداعَزَّوَجَلَّوہ دن نہ لائے کہ لوگوں کی قدم بوسی سے مجھے راحت ہو اور جو قدم بوسی نہ ہو تو تکلیف ہو کہ یہ ہلاکت ہے۔ (پھر فرمایا) تعظیم اِسی مہے کہ جس بات کومَنع کیا جائے وہ پھر نہ کی جائے اگر چِہ دل نہ مانے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ص ۴۷۳)
ع واہ! کیا بات اعلیٰ حضرت کی
عَزَّوَجَلَّ اورصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم لکھا کیجئے
{109} اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مبارَک نام کے ساتھ ہر بار’’ تعالیٰ‘‘،یا’’جلَّ جَلا لُہٗ یا’’عَزَّوَجَلَّ‘‘ وغیرہ لکھ بول کر ثواب لُوٹیے۔ حُضُورتاجدارِ مدینہصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ