ساری رات عبادت سے افضل ہے
{100}دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 304 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصہ 16 صَفْحَہ 272پرہے:گھڑی بھر علم دین کے مسائل میں مذاکرہ اور گفتگو کرنا ساری رات عبادت کرنے سے افضل ہے۔
(الدرالمختاروردالمحتار،ج۹،ص۶۷۲)
جو زیادہ بولے گا زیادہ غَلَطیاں کرے گا
{101}بولنے میں حُرُوف نہیں چَبنے چاہئیں ،صاف صاف بولنے کی مشق کیجئے ،مگر جب بھی بولئے اچّھا بولئے ، فالتو بک بک کرتے رہنا اور زور زور سے قہقہے بلند کرنا آخِرت میں بھلائی نہیں دلا سکتا نیز لوگوں پر بھی اس کا غَلَط تَأَثُّرقائم ہوتا ہے ۔ بے شک خاموشی عالم کا وقار اور جاہِل کا پردہ ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا قول ہے: شیطان پر عاقل(عقلمند) عالم سے زیادہ سخت کوئی نہیں ، اِس لئے کہ عالم بولتاہے تو عِلم کے ساتھ بولتا ہے ،چُپ ہوتا ہے توعَقل کے ساتھ چُپ ہوتا ہے، آخِر شیطان جُھنجُھلا کر کہہ اٹھتا ہے: ’’ دیکھو تو! مجھ پر اس کی گفتگو اس کی خاموشی سے بھی زیادہ شاق(یعنی دشوار) ہوتی ہے!‘‘(جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۱۷۱)تابعی بُزُرگ حضرت سیِّدُناا بن ابی حبیب علیہ رحمۃ اللہ المجیبفرماتے ہیں :عالم کے لئے یہ فتنہ ہے کہ سننے سے زیادہ اسے بولنے کی عادت ہو، حالانکہ سننے میں سلامتی ہے اور علم کی