(۱۶) ایک بار کے مُطالَعے سے سارا مضمون یاد رہ جانا بَہُت دُشوار ہے کہ فی زمانہ ہاضمے بھی کمزوراور حافِظے بھی کمزور ! لہٰذا دینی کتب ورسائل کا بار بارمُطالَعَہ کیجئے ۔
(۱۷) مقولہ ہے: اَلسَّبَقُ حَرْفٌ وَ التَّکْرَارُ اَلْفٌ یعنی سبق ایک حرف ہو اور تکرار (یعنی دُہرائی ) ایک ہزار بار ہونی چاہئے۔
(۱۸) جو بھلائی کی باتیں پڑھی ہیں ثواب کی نیّت سے دوسروں کو بتاتے رہئے ، اس طرح اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو یاد ہو جائیں گی۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{99}اگر کوئی بات خوب غَوروخَوض کے بعد بھی سمجھ میں نہ آئے تو کسی اہلِ علم سے بے جھجھک پوچھ لیجئے کہ علم کی بات پوچھنے میں شرم اور جھجھک مفتی بننے کے راستے میں بہت بڑی دیوار ہے ۔
مَدَنی مذاکرے کی فضیلت
امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے : ’’علم خزانہ ہے اور سُوال کرنا اس کی چابی ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے سُوال کیا کرو
کیونکہ اس (یعنی سوال کرنے کی صورت ) میں چار افراد کو ثواب دیا جاتا ہے۔سُوال کرنے والے کو ،جواب دینے والے کو، سننے والے اوران سے مُحَبَّت کرنے والے کو۔‘‘ (الفردوس بماثور الخطاب،الحدیث ۴۰۱۱ج۲،ص۸۰)