کا عادی تھا، چُنانچِہ تمام عُلَماء و فُقَہاءِ کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام اِس بات پرمُتَّفِق ہوئے کہ یہ خوش نصیب اِستِقبالِ قِبلہ(یعنی قبلہ کی طرف رُخ کرنے) کے اِہْتِمام کی بَرَکت سے فَقِیہ بنے ہیں کیوں کہ بیٹھتے وقْت کَعْبۃُاللہ شریف کی سَمْت مُنہ رکھنا سنّت ہے۔ (تعلیم المتعلّم طریق العلم ص ۶۷)
(۴) صُبْح کے وقت مُطالَعہ کرنابَہُت مُفِید ہے کیونکہ عُمُوماًاِس وَقت نیند کا غَلَبَہ نہیں ہوتا اورذِہن زیادہ کام کرتا ہے ۔
(۵) شوروغُل سے دُورپُر سکون جگہ پر بیٹھ کر مطالعہ کیجئے ۔
(۶) اگر جلد بازی یا ٹینشن (یعنی پریشانی)کی حالت میں پڑھیں گے مثلاً کوئی آپ کو پُکاررہا ہے اور آپ پڑھے جارہے ہیں ،یا اِستنجاء کی حاجت ہے اور آپ مسلسل مُطالَعَہ کئے جارہے ہیں ، ایسے وقت میں آپ کا ذہن کام نہیں کرے گا اور غلط فہمی کا اِمکان بڑھ جائے گا ۔
(۷) کسی بھی ایسے انداز پر جس سے آنکھوں پر زور پڑے مَثَلاً بَہُت مدھم یا زیادہ تیز روشنی میں یا چلتے چلتے یا چلتی گاڑی میں یا لیٹے لیٹے یا کتاب پر جُھک کر مُطالَعَہ کرنا آنکھوں کے لیے مُضِر (یعنی نقصان دہ)ہے ۔بلکہ کتاب پر خوب جھک کر مُطالعہ کرنے یا لکھنے سے آنکھوں کے نقصان کے ساتھ ساتھ کمر اور پھیپھڑے کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں ۔
(۸) کوشش کیجئے کہ روشنی اُوپر کی جانب سے آرہی ہو ،پچھلی طرف سے آنے میں بھی حرج نہیں جبکہ تحریر پر سایہ نہ پڑتا ہو مگر سامنے سے آنا آنکھوں کے لئے نقصان دہ ہے ۔