(۲)مُطالَعَہ شروع کرنے سے قبل حمد و صلوٰۃ پڑھنے کی عادت بنایئے، فرمانِ مصطَفٰے صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم ہے: جس نیک کام سے قبل اللہ تعالیٰ کی حمد اور مجھ پر دُرُود نہ پڑھا گیا اس میں بَرَکت نہیں ہوتی۔(کنزالعمال ج۱،ص۲۷۹،حدیث ۲۵۰۷) ورنہ کم از کم بسم اللہ شریف تو پڑھ ہی لیجئے کہ ہر صاحِبِ شان کام کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہیے ۱؎ ۔ (ایضًا،ص۲۷۷حدیث ۲۴۸۷)
( ۳)دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32 صَفحات پر مشتمل رسالے ، ’’جنات کا بادشاہ‘‘کے صَفْحَہ23پر ہے:قبلہ رُو بیٹھئے کہ اِس کی بَرَکتیں بے شُمار ہیں چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہانُ الدّین ابراہیم زَرنوجی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : دو طَلَبہ علمِ دین حاصِل کرنے کیلئے پردیس گئے، دو سال تک دونوں ہم سبق رہے، جب وطن لوٹے تو ان میں ایک فَقِیہ (یعنی زبردست عالم ) بن چکے تھے جبکہ دوسرا علم و کمال سے خالی ہی رہا تھا۔ اُس شہر کے عُلَمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السلام نے اِس اَمْر پر خوب غَور و خَوض کیا، دونوں کے حُصولِ علم کے طریقۂ کار ، اندازِ تکرار اور بیٹھنے کے اَطوار وغیرہ کے بارے میں تحقیق کی تو ایک بات جو کہ نُمایاں طور پر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جو فَقِیہ بن کے پلٹے تھے اُن کا معمول یہ تھا کہ وہ سبق یاد کرتے وَقت قِبلہ رُوبیٹھا کرتے تھے جبکہ دوسرا جو کہ کَورے کا کَور ا پلٹا تھا وہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھنے
مـــــــــــدینہ
۱؎ :اِس رسالے کے شروع میں دی ہوئی حمد و صلوٰۃ پڑھ لی جائے تواِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائیگا۔