سخت اندیشہ رہتا اوربسا اوقات ہاں کا ’’ نا‘‘ اور’’ نا‘‘ کا ’’ ہاں ‘‘ سمجھ میں آتا ہے، بلکہ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّکبھی ایسا بھی ہو تا ہے کہ کہا گیاتھا حلال اور ذِہن میں بیٹھ جاتا ہے حرام!
{95}جو کچھ پڑھایا جائے اُس کو رَٹتے رہئے ، مُحاوَرَہ ہے:’’مَا تَکرَّرَ تَقَرَّرَیعنی جس بات کی تکرار کی جاتی ہے وہ دل میں قرار پکڑ لیتی ہے۔‘‘(عمدۃ القاری،کتاب المساقاۃ،باب بیع الحطب والکلائ، ج۹،ص۹۰)
{96}جب بھی دینی علم کی یا حکمت بھری کوئی بات سنیں اُسے لکھنے کی عادت بنایئے،حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :قَیِّدُوا الْعِلْمَ بِالْکِتَابَۃِ یعنی علم کو لکھ کر قید کرلیا کرو۔ ( المعجم الکبیر للطبرانی، ج۱، ص۲۴۶، الحدیث۷۰۰)حضرت سیِّدُنا عصام بن یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہنے مفید باتیں لکھنے کیلئے ایک دینارمیں قلم خرید فرمایا تھا۔ (تعلیم المتعلم،ص۱۰۸)
{97}علمِ دین کی بات لکھ لینے سے جلدی یاد بھی ہو جاتی اور اس کی بَقاء کی صورت بھی پیدا ہوتی ہے۔تابعی بُزُرگ حضرت سیِّدُنا ابو قِلابہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مقولہ ہے: بھول جانے سے لکھ لینا کہیں بہتر ہے۔ (جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۱۰۳)علمِ نحو کے مشہور امام حضرت خلیل بن احمد تابعی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا قول ہے: ’’جو کچھ میں نے سنا ہے، لکھ لیا ہے اور جو کچھ لکھا ہے،یاد کر لیاہے اور جو کچھ یاد کیا ہے، اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔‘‘(ایضًا ، ص ۱۰۵ )