قِیامت کی ایک علامت،’’دینی علم، دین کے لئے حاصِل نہ کیا جائے گا‘‘
{93} صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کیلئے علمِ دین حاصل کیجئے۔’’ ترمذی شریف‘‘ کی حدیثِ پاک میں قِیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی بیان فرمائی گئی ہے: وَتُعُلِّمَ لِغَیْرِ الدِّین یعنی ’’اورغیرِ دین کیلئے علم حاصِل کیا جائے ۔‘‘
(ترمذی شریف، کتاب الفتن،باب ما جاء فی علامۃ۔۔الخ،ج۴،ص ۹۰، الحدیث۲۲۱۸)
اِس کی شَرح کرتے ہوئیمُفَسّرِشَہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مِراٰۃ شرح مشکوٰۃ جلد 7صَفْحَہ 263پرفرماتے ہیں :یعنی مسلمان دینی علم نہ پڑھیں (بلکہ) دنیاوی عُلوم پڑھیں یا دینی طَلَبہ(اگر چِہ) دینی علم پڑھیں مگر تبلیغِ دین کے لیے نہیں بلکہ(مَعَاذَاللہِ عَزَّوَجَلَّ) دُنیا کمانے کے لئے، جیسے آج مولوی عالم مولوی فاضل کے کورس میں ، فِقْہْ، تفسیر و حدیث کی ایک آدھ کتاب داخِل ہے تو امتحان دینے والے یہ کتابیں پڑھ تو لیتے ہیں مگر صِرف امتحان میں پاس ہو کر نوکری حاصِل کرنے کے لئے(اور) بعض طلبہ (تو)صِرف وعظ گوئی کے لیے دینی کتابیں پڑھتے ہیں۔
مِرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو
کر اخلاص ایسا عطا یا الہٰی
عِلْم کی باتیں غور سے سننا ضَروری ہے
{94}علمِ دین کی باتیں غور سے سننی چاہئیں کہ بے تَوَجہُّی کے ساتھ سننے سے غَلَط فَہمی کا