Brailvi Books

قسط 5: علم وحکمت کے 125مَدَنی پھول تذکرہ امیرِ اہلسنّت
67 - 100
میں  کامیاب ہو جائے گا ۔ دینی تعلیم سے جی چُرانا اچّھا نہیں  ہے، مصطَفٰے جانِ رحمت صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکا فرمانِ فضیلت نشان ہے: اَلعِلْمُ اَفضَلُ مِنَ الْعِبَادَۃِ یعنی علم عبادت سے افضل ہے۔    (کنز العمال،ج۱۰،ص۵۸،الحدیث ۲۸۶۵۳)
چُھٹی نہیں  کی
	کروڑوں  حنفیوں  کے عظیم پیشوا،سراج الاُمّہ ،کاشف الغُمَّہ حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے شاگردِ رشید حضرت سیِّدُنا امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم علیہ رحمۃا اللہ الکریم  کا مَدَنی مُنّا انتقال کر گیا تویہ خیا ل کر کے کہ اگر میں  مَدَنی مُنّے کی تجہیز و تکفین کے لئے رُکا تو میرا سبق چھوٹ جائے گا آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ایک دوسرے شخص کو بچے کے کفن دفن کا انتظام سونپ دیا اور خود امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی درسگاہ پہنچ گئے اورچھٹی نہیں  کی۔(المستطرف،ج۱،ص۴۰)
ہزار رَکْعت نَفْل پڑھنے سے افضل
{92}طالِبُ العِلم کو چاہئے کہ دن رات علمِ دین حاصل کرنے کی دُھن میں  مگن رہے۔حضرتِ سیِّدُنا ابودَرْدَاء اور ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہمافرماتے ہیں  : ’’(دینی)عِلم کا ایک باب جسے آدَمی سیکھتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک ہزار رَکْعَت نَفْل پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جب کسی طالبُ العلم کو(دینی) علم حاصِل کرتے ہو ئے موت آجائے تو وہ شہید ہے ۔‘‘ (الترغیب والترہیب حدیث ۱۶ ج ۱ ص ۵۴ )