Brailvi Books

قسط 5: علم وحکمت کے 125مَدَنی پھول تذکرہ امیرِ اہلسنّت
66 - 100
دریافت کیا تو یہ کہنا ہی نہیں  جانتے کہ’’ مجھے معلوم نہیں ‘‘ یا کتاب دیکھ کر بتاؤں  گا کہ اس میں  وہ اپنی توہین جانتے ہیں  ،اٹکل پَچُّو جی میں  جو آیا کہہ دیا۔ صَحابۂ کِبار و اَئمّۂ اَعلام کی زندگی کی طرف اگر نظر کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ باوُجُود زبردست پایۂ اِجتِہاد رکھنے کے بھی وہ کبھی ایسی جُرأَت نہیں  کرتے تھے ،جو بات معلوم نہ ہوتی اُس کی نسبت صاف فرمادیا کرتے کہ مجھے معلوم نہیں۔ ان’’ نوآموز مولویوں  ‘‘کو ہم خیر خواہانہ نصیحت کرتے ہیں  کہ تکمیلِ درسِ نظامی کے بعد فقہ و اُصول و کلام وحدیث و تفسیر کا بکثرت مُطالَعہ کریں  اور دین کے مسائل میں  جسارت نہ کریں  جو کچھ دین کی باتیں  اِن پر مُنکَشِف و و اضِح ہو جائیں  اُن کو بیان کریں۔ جہاں  اشکال پیدا ہو اُس میں  کامل غور وفکر کریں  خود واضِح نہ ہو تو دوسروں  کی طرف رُجوع کریں  کہ علم کی بات پوچھنے میں  کبھی عار(شرم) نہ کرنا چاہئے ۔  (بہارِ شریعت حصّہ۱۵ ص ۱۴مکتبہ رضویہ، باب المدینہ کراچی)
طالبِ عِلم کے چُھٹّی نہ کرنے کا فائدہ
{91}طالبِ علم اگر بالکل بھی چُھٹّی نہ کرے اور اس طرح درسِ نِظامی کرے جس طرح کرنے کا حق ہے اورنجی طور پر بھی مُطالَعَہ جاری رکھے اوریہ سب محض اپنی لیاقت کا لوہا منوانے ،اعلیٰ سَنَد پانے اور ذِہین وفَطین کہلانے کیلئے نہ ہو بلکہ رِضائے خدائے قادِر عَزَّوَجَلَّ کی خاطر ہو تواِن شاءَ اللہُ الْآخِرعَزَّوَجَلَّ کثیرووافِر فرائض عُلُوم سیکھنے