مَدَنی عُلَماء کو خوب بھاگ دوڑ کرنی چاہئے کہ دعوتِ اسلامی کے لئے ملنے والے مَدَنی عطیّات کی بیشتر رقم مدارِس و جامِعات ہی پر صَرف ہوتی ہے۔برائے کرم! اس قَدَرجان توڑ کر کوشش فرمایئے کہ عام اسلامی بھائی اور ذمّے داران مَدَنی عطیّات کے مُعامَلے میں بھی آپ حضرات کے دستِ نگر ہو کر رَہ جائیں۔
{89}مُہلِکات(مُہلِک کی جمع مُہلکات یعنی ہلاکت میں ڈالنے والی چیزیں مَثَلاً جھوٹ، غیبت،چغلی وغیرہ) کا جاننا بھی فرائض عُلُوم میں سے ہے،جو نہیں جانتا وہ عالِم کیسے ہوسکتا ہے!اِس ضمن میں ’’ احیاء العلوم‘‘ کی تیسری جلد کا مُطالَعہ نہایت اہم ہے۔
کیا درسِ نظامی کی سند عالم ہونے کیلئے کافی ہے؟
{90}جُوں توں کر کے درسِ نظامی کی سند حاصِل کر لینے والا خوش فہمی میں ہرگز نہ رہے، مزید علم حاصِل کرتا رہے ۔صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :اوّل تو درسِ نظامی جو ہندوستان کے مدارِس میں عُموماً جاری ہے اس کی تکمیل کرنیوالے بھی بَہُت قلیل اَفراد ہوتے ہیں عُمُوماً کچھ معمولی طور(سے) پڑھ کر سند حاصل کر لیتے ہیں او ر اگر پورا درسِ(نظامی) بھی پڑھا تو اس پڑھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اب اتنی اِستِعداد (یعنی صلاحیت)ہو گئی کہ کتابیں دیکھ کر محنت کر کے علم حاصِل کرسکتا ہے ورنہ درسِ نظامی میں دینیات کی جتنی تعلیم ہے ظاہر ہے کہ اُس کے ذَرِیعے سے کتنے مسائل پرعُبُور ہو سکتا ہے! مگر ان میں اکثر کو اتنا بیباک پایا گیاہے کہ اگر کسی نے اُن سے مسئلہ