قَدَر دعوتِ اسلامی والوں اور عام مسلمانوں کو آپ کے ذَرِیعے فیض زیادہ ملیگا۔لہٰذا خوب دل لگا کرتَحصیلِ علم میں مشغول رہئے ۔
{84} بعض اوقات لکھنے یا بولنے میں الفاظ مُطلَق ہوتے ہیں لیکن مُسْتَثْنِیات بھی ہوتے ہیں۔ لہٰذا کوئی بھی مسئلہ پڑھنے کے باوجود آگے بیان کرنے سے پہلے غور و فکر بھی کر لینا چاہیے اور موقع محل کو بھی سامنے رکھنا چاہیے،مثلاًبہارِ شریعت حصہ 16صفحہ 23پرہے کہ ’’باغ میں پہنچا وہاں پھل گرے ہوئے تھے تو جب تک مالک کی اجازت نہ ہو پھل نہیں کھا سکتا ۔‘‘ مگراس حکم میں اِضطراری حالت کااستثناء ہے جیسا کہ بہار شریعت ہی میں ہے ’’اضطرار کی حالت میں یعنی جب جان جانے کا اندیشہ ہے اگر حلال چیز کھانے کے لئے نہیں ملتی تو حرام چیز یا مُردار یا دوسرے کی چیز کھا کر اپنی جان بچائے اور ان چیزوں کے کھالینے پر اس صورت میں مؤاخذہ نہ ہوگا بلکہ نہ کھا کر مر جانے میں مؤاخذہ ہے اگرچہ پرائی چیز کھانے میں تاوان دینا ہوگا۔‘‘
(بہار شریعت حصہ ۱۶ ص۱۶مطبوعہ مکتبۃالمدینہ)
عالم کو علمِ تصوُّف سے مَحروم نہیں رہنا چاہئے
{85}جو شخص خواہ بَہُت بڑا عَلَّامہ فَہّا مہ بن گیا مگر تصوُّف کے بارے میں اُس نے کافی معلومات حاصِل نہ کیں یا کسی صوفیٔ باصفا کی صُحبت نہ پائی تب بھی بے شک وہ عالمہی ہے مگر ایک طرح سے اس میں بَہُت بڑی کمی رہے گی۔
{86} اِحیاء ُالعلوم،مِنہاج العابدین ،لُباب الاِحیاء،قُوْتُ القُلوب ،کشفُ