Brailvi Books

قسط 5: علم وحکمت کے 125مَدَنی پھول تذکرہ امیرِ اہلسنّت
62 - 100
ازسرِ نو پڑھ لیا کریں  تاکہ پوچھنے والے مسلمانوں  کی رہنُمائی سہل اور آپ کیلئے جنّت کا داخِلہ آسان ہو۔مصطَفٰے جانِ رحمت ،شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنَّت،مَنبعِ جُودوسخاوت، سراپا فضل و رحمت صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے:’’جو کوئی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرائض سے متعلِّق ایک یا دو یا تین یا چار یا پانچ کلمات سیکھے اور اسے اچّھی طرح یا د کرلے اور پھر لوگوں  کو سکھائے تووہ جنّت میں ضَرور داخِل ہوگا۔‘‘ (اس حدیثِ پاک کے راوی)حضرت ِسیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں  :’’رسولُ اللہصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم سے یہ بات سننے کے بعد میں  کوئی حدیث نہیں  بُھولا۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب، رقم۲۰، ج۱، ص۵۴)اِس حدیثِ مبارَکہ میں مُبلِّغین و مبلِّغات کیلئے کافی ترغیب موجود ہے کہ وہ بھی بیان کی خوب خوب تیّاری فرمائیں  ،فرائض کو یاد کرنے کی عادت بنائیں  ، مسلمانوں  کوسکھائیں اور خود کو جنّت کا حقدار بنائیں۔
مُفتی کا سُکوت مسئلے کی تصدیق نہیں 
{82}کسی اجتماع یا مجلس میں ایک عالم ومفتی کا کسی مسئلے کو سن کر سُکوت کرنا اسکی طرف سے مُہرِ تصدیق نہیں  ہے۔عالم جب تک کسی مسئلے کے بارے میں  زَبان یا قلم سے تصدیق یا کسی طرح کے اشارے کنائے سے تَوثِیق نہ کرے اس مسئلے کو اس کی طرف سے مُصَدَّقہ نہ مانا جائے۔
{83}آپ جس قَدَرمنجھے ہوئے مُفتی بن کر نکلیں  گے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسی