فرمائے نہ نَفْل۔‘‘(سنن ابی داوٗد الحدیث ۵۰۰۶ ج۴ ص۳۹۱)مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثِین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ اللہِ القویاِس حدیثِ پاک کے تحت فر ما تے ہیں : صَرْفُ الْکَلَامِ (یعنی باتوں میں ہَیرپَھیر ) سے مُراد یہ ہے کہ تحسینِ کلام (یعنی کلام میں حُسن پیدا کرنے )کیلئے جھوٹ ، کِذب بیانی بطور ریا کاری کی جائے اور اِلتباس وابہام(یعنی یکسانیّت کا شبہ) پیدا کرنے کے لیے اس میں ردّ وبدل کر لیا جائے۔(اشعۃ اللّمعات فارسی،ج۴ ص ۶۶)
{79} لکھتے رہنا چاہیے تا کہ مشق ہو۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ رفتہ رفتہ عبارت بھی دُرُست ہوگی اور خط بھی اچّھا ہو جائے گا۔’’کشف الخفا‘‘میں ہے:مقولہ ہے: مَنْ جَدَّ وَجَدَ یعنی ’’جس نے کوشِش کی اُس نے پا لیا۔‘‘(کشف الخفاء،ج۲،ص۲۱۷ الحدیث۲۴۴۹)
{80}جو لفظ صحیح ادا نہ ہو پاتا ہو اُس کو مع اِعراب کم از کم25 بار لکھ لیا کریں۔اور اتنی ہی بار زَبان سے بھی دو ہرالیں ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ دُرُست ادائیگی میں مدد ملے گی۔مقولہ ہے: اَلسَّبَقُ حَرْفٌ وَّالتَّکْرارُ اَلْفٌ یعنی سبق ایک حَرف ہی سہی اس کی تکرار ہزار بار ہونی چاہئے۔ (تعلیم المتعلم،ص۷۴)
مخصوص اَحکام کا ہر سال نئے سِرے سے مُطا لَعَہ کیجئے
{81}میرے مَدَنی عالمو! ہر سال قربانی کے دنوں میں قربانی کے اورماہِ رمَضانُ الْمبارَک کے قریب روزہ،تراویح، صَدَقۂ فِطر اور زکوٰۃوغیرہ کے احکام