Brailvi Books

قسط 5: علم وحکمت کے 125مَدَنی پھول تذکرہ امیرِ اہلسنّت
60 - 100
’’گُل‘‘ کی چار بار تکرار ہے جو کہ عیب نہیں  تحسینِ کلام کی مزید افزونی کا باعث ہے   ؎
جنت ہے ان کے جلوہ سے جو یائے رنگ و بُو
اے گُل ہمارے گُل سے ہے گُل کو سوالِ گُل
{77}اِختِتامیہ(۔)سُوالیہ نشان (؟) ہِلالَین (  ) اور قومہ( ،) وغیرہ کا مناسِب جگہوں  پرضَرور استعمال کیجئے۔
عُمدہ الفاظ بولنے کی نیّت
{78}عبارت کو مُقَفّٰی و مُسَجَّعبنانے کی سعی فرمایئے مگر نیّت یہ ہو کہ لوگوں  کو اسلامی تحریریں  پڑھنے کا شوق بڑھے ، اور ان کی اصلاح کا سامان ہو۔حظِ نفس وریاکاری کیلئے اپنی علمی دھاک بٹھانے کی نیَّت سے بولنے لکھنے میں سخت ہلاکت ہے۔ہر طرح کی دینی یادنیوی بات میں  عَرَبی ،انگلش الفاظ اور خوبصورت فِقرے اور مُحاورے لکھنے بولنے کو اگر کسی کااس لئے جی چاہے کہ لوگوں  پر اپنی زَبان دانی کی چھاپ پڑے اور شرعی مصلحت کچھ نہ ہو تو اسے اپنی ہلاکت کے استِقبال کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ گفتگو میں  ریاکاری کرنے والوں  کو ڈر جانا چاہئے کہ مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان، محبوبِ رحمن صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’جس نے بات کہنے کے مختلف انداز اس لئے سیکھے کہ اس کے ذَرِیعے لوگوں  کے دلوں  کو قید کرے(یعنی لوگوں  کو اپناگِرویدہ و معتقد بنائے)اللہ تبارک و تعالیٰ بروزِ قِیامت نہ اس کے فرض قَبول