والحمد للّٰہ رب العالمین۔
واللہ سبحانہ وتعالی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أَتَمُّ وأَحْکَمُ۔
سب تعریف اللہ تعالیٰ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروَرد گارہے، اور اللہ تعالیٰ پاک بلند وبالا سب سے بڑا عالم ہے اور اس عظمت والی ذات کا علم نہایت درجہ کامل اور محکم ومضبوط ہے۔ (ت)
۱۴/جمادی الاولی ۱۳۱۰ ھ
رسالہ:
أعجب الإمداد في مکفّرات حقوق العباد
ختم ہوا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
=کے باعث ان حقوق کی ادائیگی مشکل سے مشکل تر ہو تی جارہی ہے لیکن رحیم وکریم رب عزوجل کا رحم وکرم نہایت ہی وسیع اور عظیم ہے جس کی ذات سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ جل شانہ ان حقوق کی ادائیگی کی توفیق نصیب فرمائے گا ۔اور مذکورہ بالاتمام صورتوں میں قاعدہ قانون ہر طرح سچا رہا کہ جب تک صاحبِ حق اپنا حق معاف نہیں کریگا حقوق معاف نہیں ہونگے ۔ لہٰذا حقوق کی ادائیگی میں ہر وقت ڈرتے رہنا چاہیے کہ مجھ سے کسی کی حق تلفی نہ ہو جائے اور حتی المقدور ان حقوق کی ادائیگی کی کوشش کرتے رہنا چاہیے ایمان کی شان تو یہی ہے کہ بندہ امید اور خوف کے درمیان رہے یعنی اپنے عمل کے قبول ہونے کی امید بھی ہو اور قبول نہ ہونے کا ڈر بھی ۔