اُمید کرتا ہوں کہ اس حدیث کی یہ تاویل، تاویلِ امام غزالی قدس سرّہ العالی سے اَحسَن واَجوَد ہو ( بہت زیادہ اچھی اور عمدہ ہو گی) وباللہ التوفیق۔
پھر ان سب صورتوں میں بھی جبکہ طرز یہی برتی گئی کہ صاحبِ حق کو راضی فرمائیں اور معاوضہ دے کر اسی سے بخشوائیں تو وہ کلیہ (قانون) ہر طرح صادق (درست) رہا کہ حق العبد بے معافیِ عبد، معاف نہیں ہوتا۔ غرض معاملہ نازک ہے اور امر شدید اور عمل تباہ اور اَمل بعید، اور کرم عمیم اور رحم عظیم ، اور ایمان خوف ورجا کے درمیان(1)۔
وَحَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الوَکِیْل وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إلاّ باللہِ الْعَلِيِّ العَظِیْمِ وَصَلَّی اللہُ تَعَالی علی شَفِیْعِ الْمُذْنِبِیْنَ نَجَاۃِ الْہَالِکِیْنَ مُرْتَجَی الْبَائِسِیْنَ مُحَمَّدٍ وَّآلِہ وَصَحْبِہ أجْمَعِیْن۔
اور ہمیں اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، اور گناہوں سے کنارہ کش ہونے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قدرت اس کی توفیق وعنایت کے بغیر کسی میں نہیں ، وہ بلند مرتبہ بزرگ وبرتر ذات ہے، اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں ہوں گنہگاروں کی سفارش کرنے والی ذات پر، تباہ حالوں کے وسیلۂ نجات پر اور ناامید ہونے والوں کے مرکز امید پر یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر، ان کی سب اولاد اور ساتھیوں پر۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) بہر حال حقوق العباد کی ادائیگی نہایت نازک معاملہ ہے جن کی ادائیگی کا حکم قرآن وحدیث میں نہایت ہی اہتمام کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ بندہ کسی بھی طرح کسی دوسرے بندے کے حقوق پامال نہ کرے لیکن سُستی وغفلت کے باعث ان حقوق کی ادائیگی نہ ہونے کے برابر ہے اور اسی سُستی اور غفلت=