اور بے شک بے حصولِ معرفتِ الٰہی، اِطاعتِ ہوائے نفس سے باہر آنا سخت دشوار، یہ بندگانِ خدا نہ صرف عبادت بلکہ طلب واِرادت بلکہ خود اصل ہستی ووجود میں اپنے رب جلَّ مجدُہ کی توحید کرتے ہیں۔(1) لا إلہ إلا اللہ ( اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ ت) کے معنی عوام کے نزدیک: لا معبود إلا اللہ (اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت کی جائے ۔ت) خواص کے نزدیک: لا مقصود إلاّ اللہ (اللہ کے سوا کوئی مقصود ومطلوب نہیں۔ ت) اہلِ ہدایت کے نزدیک: لا مشہود إلاّ اللہ (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی وحدانیت کی گواہی دی جائے اور جس کی بارگاہ میں مخلوق حاضر ہونے والی ہو ۔ت) ان اَخصُّ الخواص اربابِ نہایت (اللہ رب العزت کے نہایت ہی خاص بندوں ) کے نزدیک: لا موجود إلاّ اللہ (اللہ تعالیٰ کے سوا حقیقتاً کوئی موجود نہیں۔ ت) تو اہل توحید کا سچا نام انہیں کو زیبا، ولہٰذا ان کے علم کو علمِ توحید کہتے ہیں۔
جعلنا اللہ تعالی من خدامھم وتراب أقدامہم في الدنیا والآخرۃ وغفر لنا بجاہہم عندہ أنّہ أہل التقوی وأہل المغفرۃ۔ آمین!
اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے خادموں میں شامل فرمائے اور دنیا وآخرت میں ان کے قدموں کی مٹی بنادے اور ان کے اس مرتبۂ عالیہ کے طفیل جو ان کا اس کی بارگاہ میں ہے ہمیں بخش دے بیشک وہی اس لائق ہے کہ اس سے خوف رکھا جائے اور وہی بخشنے والا ہے۔ اے اللہ! میری دعا قبول ومنظور فرما۔( ت)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) اللہ عزوجل کی معرفت کے بغیر نفس کی اطاعت سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہے اور اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ معرفتِ الٰہی کے اس درجہ پر فائز ہوتے ہیں کہ اپنے رب عز وجل کی عبادت، اس کی یاد و محبت بلکہ خود ان کی ہستی اور ان کا وجود اللہ عزوجل کی توحید بیان کرتا ہے۔