والحمد للّٰہ الکریم الودود، وہذا ما زدتُہ بفضل المحمود۔
(سب تعریف اس خدا کیلئے جو بزرگ وبرتر معزز اور بندوں کو دو ست رکھنے والا اور ان کا محبوب ہے۔ یہ وہ ہے جس کا میں نے اللہ تعالیٰ سِتودہ صفات (اچھے اوصاف والے) کے فضل وکرم سے اضافہ کیا ہے۔ ت)
فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہٗ کے گمان میں حدیثِ مذکور اُمّ ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا:
ینادي مناد من تحت العرش: یا أہل التوحید، الحدیث۔(1)
(عرش کے نیچے سے ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا اے توحید والو! ،الحدیث۔ ت )
میں اہلِ توحید سے یہی محبوبانِ خدا مراد ہیں کہ توحید خالص تام کا مل ہرگونہ شرکِ خفی واَخفی سے پاک ومنزہ انہیں کا حصہ ہے(2) بخلاف اہلِ دنیا جنہیں عبد الدینار، عبد الدرہم، عبد ِطمع (لالچی)، عبد ِہویٰ (خواہشات کا پیرو)، عبد ِرغب فرمایا گیا۔
وَقَالَ تَعَالی:
{اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ}(3)
ترجمۂ کنز الایمان: بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
=تواور صاحبِ حق بھی بِلا چون وچرا راضی کر دیا جائے گا تو ایسا شخص جس کی طرف اللہ رب العزت کی شانِ کریمی اس قدر مائل ہو اسے گناہ کس طرح نقصان پہنچا سکتا ہے !
(1) ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ أحمد، ج۱، ص۳۶۶، الحدیث: ۱۳۳۶۔
(2) اصل اور کامل توحید فقط اَولیائے کاملین ہی کا خاصہ ہے کہ یہ حضرات ہر قسم کے پوشیدہ سے پوشیدہ شرک یعنی ریاکاری وغیرہ سے بھی پاک وصاف ہوتے ہیں۔
(3) پ ۲۵، الجاثیۃ: ۲۳۔