وھذا ما اختارہ سیّدنا الوالد رضي اللہ تعالی عنہ۔
اور اسی کو ہمارے والد گرامی (مولانا نقی علی خان) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اختیار فرمایا۔
اور احیاناً (کبھی کبھار) کوئی تقصیر واقع ہو تو واعظ وزاجر اِلٰہی اُنہیں متنبہ کرتا اور توفیقِ اِنابت دیتا ہے۔(1)
پھر:
((التاءب من الذنب کمن لا ذنب لہ))(2) ۔
(گناہوں سے توبہ کرنے والا اس آدمی کی طرح ہو جاتا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ ت)
اس حدیث کا ٹکڑا ہے ۔
وھذا ما مشی علیہ المناوي في ’’التیسیر‘‘۔
(یہ وہی ہے جس پر علامہ مناوی نے ’’تیسیر‘‘ میں رَوِش اختیار فرمائی۔ ت)
اور بالفرض اِرادۂ اِلٰہیہ دوسرے طور پر تجلّیِ شانِ عَفو ومغفرت واِظہارِ مکانِ قبول ومحبوبیت پر نافذ ہوا تو عفو مطلق واِرضائے اہلِ حق سامنے موجود، ضَرَرِ ذَنْب بحمداللہ ہر طرح مَفقُود(3)۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) اوراگرکبھی کبھار ان نیک بندوں سے حقوق کی ادائیگی میں کچھ کمی واقع ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں رجوع کی توفیق نصیب ہوتی ہے ۔
(2) ’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ، الحدیث: ۴۲۵۰، ج۴، ص۴۹۱۔
(3) ایک صورت تو یہ ہے کہ اﷲ رب العزت حقوق کی ادائیگی اپنے ذمۂ کرم پر لے کر صاحبِ حق کو راضی فرمائے گا جبکہ ایک صورت اور بھی ہے کہ اگر اللہ رب العزت کا ارادہ بندوں پر عفو وکرم اور بخشش ومغفرت کے اعتبار سے جوش پر ہوا تو پھر بندے بغیر کسی حساب وکتاب اور باز پرس کے بخش دیئے جائیں گے اور=