ما علی عثمٰن ما عمل بعد ہذہ ما علی عثمٰن ما عمل بعد ھذہ(1)۔
آج سے عثمان کچھ کرے اُس پر مواخذہ نہیں ، آج سے عثمان کچھ کرے اُس پر مواخذہ نہیں۔
فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہٗ کہتا ہے حدیث:
((إذا أحبّ اللہ عبدًا لم یضرہ ذنب))
رواہ الدیلمي في ’’مسند الفردوس‘‘ والإمام القُشیري في ’’رسالتہ‘‘ وابن النجار في ’’تاریخہ‘‘ عن أنس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم(2)۔
جب اللہ تعالی کسی بندے کو دوست رکھے تو اسے کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا ۔ مُحدِّث دیلمی نے اسے ’’مسند الفردوس‘‘ میں ، امام قشیری نے اپنے ’’رسالہ ‘‘میں اور ابن نجار نے اپنی ’’تاریخ‘‘ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالہ سے اسے حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے روایت کیا۔ (ت)
(مذکورہ بالا حدیث) کا عمدہ محمل (بہترین معنی) یہی ہے کہ محبوبانِ خدا، اول تو گناہ کرتے ہی نہیں :
ع إنّ المُحبّ لمن یحبّ مطیع
(بے شک محبت کرنے والا جس سے محبت کرتا ہے اس کا فرمانبردار ومطیع ہوتا ہے۔ ت)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب المناقب، باب مناقب عثمان بن عفان، الحدیث: ۳۷۲۰، ج۵، ص۳۹۱، ملخصًا۔
(2) ’’فردوس الأخبار‘‘، ذکر الفصول من أدوات الألف واللام، الحدیث: ۲۲۵۱، ج۱، ص۳۰۸۔ و’’الدر المنثور‘‘، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۲، ج۱، ص۶۲۶۔