Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
39 - 46
ستکون لأصحابي زلّۃ یغفرھا اللہ تعالی لھم لسابقتھم معي(1)۔
عنقریب میرے ساتھیوں  سے کچھ لغزشیں  ہونگی جنہیں  ان کی میرے ساتھ پیش قدمی (صحبت) کے باعث اللہ تعالیٰ معاف فرما دیگا۔ (ت)
	تو مولیٰ تعالیٰ وہ حقوق اپنے ذمۂ کرم پر لے کر اَربابِ حقوق کو حکمِ تجاوز (حق والوں  کو حق معاف کرنے کا حکم) فرمائے گا اور باہَم صفائی کرا کر آمنے سامنے جنت کے عالیشان تختوں  پر بٹھائے گا کہ
{ وَنَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۷﴾}(2)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے ان کے سینوں  میں  جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے، آپس میں  بھائی ہیں  تختوں  پر رو برو بیٹھے۔ 
	اسی مبارک قوم کے سرور وسردار حضراتِ اہلِ بدر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین جنہیں  اِرشاد ہوتا ہے: 
اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم(3)۔
جو چاہو کرو کہ میں  تمہیں  بخش چکا۔
	انہیں  کے اَکابِر سادات سے حضرت امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں  جن کیلئے بارہا فرمایا گیا: 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1) ’’الجامع الصغیر‘‘، حرف التاء، الحدیث: ۳۳۵۶ جزئ۱، ص۲۰۱۔
(2) پ۱۴،  الحجر: ۴۷۔
(3) ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب المغازي، باب فضل من شہد بدرا، الحدیث: ۳۹۸۳، ج۳، ص۱۳۔