قَالَ تَعَالی: {اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾}(1)
اللہ تعالیٰ نے ا رشاد فرمایا: سن لو بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔ (کنز الایمان)
تو اُن میں بعض سے اگر بَتَقاضائے بَشَرِیَّت (انسان ہونے کے ناطے) بعض حقوقِ اِلٰہیہ میں اپنے منصب ومقام کے لحاظ سے کہ ’’حَسَنَاتُ الأبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْن‘‘(2) کوئی تقصیر واقع ہو (یعنی ان بزرگوں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں اگر کچھ کمی واقع ہو جائے) تو مولیٰ عزوجل اسے وقوع (واقع ہونے) سے پہلے معاف فرما چکا کہ
قد أعطیتُکم من قبل أن تسألوني وقد أجبتُکم من قبل أن تدعوني وقد غفرتُ لکم من قبل أن تعصوني(3)۔
میں نے تمہیں عطافرمادیا اس سے پہلے کہ تم مجھ سے کچھ مانگو، اور میں نے تمہاری درخواست قبول کرلی قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو،اوریقینا تمہاری نافرمانی کرنے سے پہلے میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ (ت)
یوہیں اگر باہم کسی طرح کی شکر رنجی (معمولی سی رنجش) یا کسی بندہ کے حق میں کچھ کمی ہو جیسے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مُشاجرات (اختلافات) کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1)پ۱۱، یونس:۶۲.
(2) یعنی :نیکوں کے جو نیک کام ہیں مقربوں کے حق میں گناہ ہیں وہاں ترکِ اَولیٰ کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ترکِ اَولیٰ ہرگز گناہ نہیں۔
(3) ’’التفسیر الکبیر‘‘، سورۃ القصص، تحت الآیۃ: ۴۶، ج۸، ص ۶۰۳، بتغیر قلیل۔